تحریر: محترمہ شازیہ بتول
حوزہ نیوز ایجنسی| ولایت سے مراد یہ ہے کہ اسلام، فقط نماز، روزہ، زکوۃ، ذاتی اعمال اور عبادات ہی کا نام نہیں ہے، اسلام ایک سیاسی نظام بھی رکھتا ہے جس کے تحت اسلامی قوانین کے تناظر میں حکومت کی تشکیل کا نظریہ موجود ہے۔ اسلام، حکومت کو ولایت کا نام دیتا ہے اور جو شخص حکومت کا سربراہ ہے اسے والی، ولی اور مولا کہتا ہے جو لفظ ولایت کے ہی مشتقات ہیں۔
اسلامی اصطلاح میں حکومت کو ولایت کہا جاتا ہے۔ اس نظام میں حاکم کا عوام سے محبت آمیز، جذباتی، فکری اور عقیدتی رشتہ ہوتا ہے۔
ولایت خدا کی طرف سے
ولایت یعنی ایک اسلامی معاشرے کی سرپرستی۔ یہ طرز حکومت دیگر معاشروں کی حکومتوں سے مختلف ہے۔ اسلام میں معاشرے کی سرپرستی کے مسئلے کا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہے کسی بھی انسان کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ دوسرے انسانوں کی امور کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے۔ یہ حق اللہ تعالیٰ کی ذات سے مختص ہے جو تمام انسانوں کا خالق، ان کی مصلحتوں سے واقف اور ان کے جملہ امور کا مالک ہے۔ بلکہ وہ تو عالم ہستی کے ایک ایک ذرے کے تمام امور کا مالک ہے کوئی بھی طاقت، کوئی بھی شمشیر، کوئی بھی دولت اور کوئی بھی علمی ملکہ کسی کو بھی یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ دیگر انسانوں کی تقدیر کے فیصلے کریں۔
اللہ تعالیٰ اس ولایت و حکومت کی نفاذ کے لیے اپنے خاص ذرائع کا استعمال کرتا ہے۔جب اسلامی حاکم کا انتخاب نص کے ذریعے انجام پایا ہو یا معین کردہ معیاروں کے مطابق عمل میں آیا ہو اور اسے عوام کی امور کا انتظام سونپ دیا جائے تو یہ ولایت، ولایتِ الٰہی کہلائے گی۔ یہ حق الٰہی اور خدائی اقتدار ہے جو عوام پر نافذ ہوا ہے۔ اگر کوئی اس ولایت کو تسلیم نہ کرے تو اس کی حکومت کیسی بھی ہو عوام پر حکمرانی کا اسے حق نہیں ہے یہ نکتہ بھی اسلامی معاشرے کی تقدیر کے سلسلے میں بہت اہم اور حیاتی ہے۔
ولایتِ الٰہی کی خصوصیات
ولایتِ الٰہی کی خصوصیات میں قدرت، حکمت، انصاف اور رحمت شامل ہیں جو شخص اور سسٹم عوام کے امور کا نظم نسق سنبھالتا ہے اسے الٰہی قدرت و حکمت، انصاف و مساوات اور رحمت و عطوفت کا مظہر ہونا چاہیے۔ یہ خصوصیت، اسلامی اور غیر اسلامی سماجوں کے درمیان خط فاصل کا درجہ رکھتی ہے۔ ایک مدنی اور جمہوری معاشرے میں ہمیشہ قانون کی بالادستی ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے میں بھی ولی فقیہ کو بھی وہی قانونی مقام حاصل رہے گا۔ یعنی یہاں عوام کے بالواسطہ انتخاب سے معیاروں پر اسے تولا جائے گا جیسے ہی اس میں کوئی معیار زائل ہوا اسے معزول کر دیا جائے گا۔ پالیسی سازی کے عمل میں ولی فقیہ بنیادی کردار کا حامل ہے، تاہم اجرائی امور میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔
ولی فقیہ کا کردار یہ ہوتا ہے کہ وہ اس بات پر نظر رکھے کہ مختلف کوششیں اور کارکردگی نظام کی پیش قدمی کے عمل کو اہداف اور اقدار سے منحرف نہ کر دیں، اس میں دائیں یا بائیں کجی نہ پیدا ہو جائے۔ اعلیٰ اہداف کی جانب نظام کی پیشرفت پر نظر رکھنا اور اس کے صیانت و حفاظت ولی فقیہ کی سب سے بنیادی اور اہم ذمہ داری ہے۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام کے سیاسی باب اور دین کی تعلیمات کے اندر سے اس کردار کو اخذ کیا ہے۔
ولایتِ فقیہ کی ضرورت
ولایت فقیہ کا موضوع جو بیان کیا گیا ہے فقط اس لیے ہے کہ اسلام کی حکومت قائم ہو، استبدادی طاقتوں کا راستہ روکا جا سکے اور طاغوتی طاقتوں کا راستہ روکا جا سکے، کیوں کہ کسی شخص کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ حکومت کرے، کسی بھی شخص کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ ملت پر مسلط ہو جائے۔ مسلمانوں پر تسلط حرام ہے چاہے وہ کوئی بھی شخص ہو فقط امامِ مسلمین یعنی وہ جو نفسانی خواہشات کا تابع نہ ہو، وہ جو زمانے کے حالات سے واقف ہو اور وہ جو مکتب اسلام سے آگاہ ہو، ایسا شخص سربراہ ہو اور دوسرے تمام ادارے اس کی نگرانی میں منظم ہوں تاکہ اسلام کے قوانین نافذ ہو جائیں اور ایک اسلامی حکومت تشکیل پائے۔ (شہید آیت اللّہ دستغیب شیرازی)
ولی فقیہ کی شرائط
ولی فقیہ ہونے کی پہلے شرط یہ ہے کہ وہ مجتہد مطلق ہو۔ مجتہد مطلق سے مراد وہ مجتہد ہے جو اسلام کی تعلیمات کو صحیح طرح سے جامع طور پر جانتا ہو، وہ صرف فقہ اور اصول فقہ میں فقیہ نہیں ہے، بلکہ اسلام کے تمام اصول، فروع، عبادات،۔عقود، احکام اور اسلامی سیاست میں مجتہد ہے۔ مجتہد مطلق وہ ہے جو تفسیر، حدیث، کلام کے ساتھ ساتھ علم سیاست میں بھی یدِ طولی رکھتا ہے۔
ولی فقیہ ہونے کی دوسری شرط عدالت مطلق ہے۔ عدالت کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ انسان کے اندر گناہ نہ کرنے کا ملکہ پیدا ہو جائے، یعنی خود کو گناہوں سے اتنا دور رکھے کہ اس کے اندر یہ صلاحیت پیدا ہو جائے کہ گناہ نہ کرے۔ فقیہ پر ضروری ہے کہ خود کو گناہ سے بچائے۔ امت اسلام کی مدیریت بہت ہی حساس امر ہے اور جتنا بڑا منصب ہے اسی اوج کی اعلیٰ عدالت ہونا بھی ضروری ہے۔
مدیریت اور رہبریت کی استعداد
یہ وہ اہم ترین شرط ہے جس کی وجہ سے بہت سے انقلابی اور غیر انقلابی علماء ولی فقیہ بننے سے قاصر ہو جاتے ہیں، کیونکہ جس شخص کے اندر مدیریت کی صلاحیت نہیں ہے، مسائل کی صحیح نظر اور فکر حاصل نہیں ہے وہ مسائل کو بہت تنگ نظری سے دیکھتا ہے، صحیح تفکر نہیں کر پاتا۔ دشمن ایک سازش کر رہا ہوتا ہے اور اس رہبر کو پتہ تک نہیں ہوتا کہ کیا ہو رہا ہے اور دشمن کا ہدف کیا ہے؟ اور اگر درست فیصلہ نہ کرے تو پوری امت کو ہی لے ڈوبے گا۔
ولایتِ فقیہ کے اثبات میں عقلی دلائل
اگر کوئی یہ سوال کرے کہ خدا نے کس لیے اولو الامر قرار دیا ہے اور اس کے اطاعت کو واجب کیا ہے؟ تو اس کے جواب میں بہت سی وجوہات و دلائل موجود ہیں:
پہلی دلیل یہ ہے کہ لوگ ایک معین راستے پر حرکت کریں خدا کی طرف سے انہیں یہ حکم ہے کہ وہ اس راستے سے تجاوز نہ کریں اور خدا کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں۔ اگر تجاوز کیا اور غلط راستے پر نکل کر فساد کا شکار ہو گئے تو نہ اس کی تعمیل ہو سکے گی جس کا خدا نے حکم دیا ہے اور نہ لوگ ایک راستے پر باقی رہ سکیں گے۔لیکن اگر صاحب اقتدار شخص کو ان پر ناظر بنا دیا جائے جو امانتدار ہو، جو اس امر کی ذمہ داری اٹھا سکے اور کسی کو یہ اجازت نہ دے کہ اپنے حق کے دائرے سے تجاوز کرے یا پھر کسی اور کے دائرے حقوق میں قدم رکھے تو معاشرہ ہمیشہ اس ایک ہی معین راستے پر گامزن رہے گا۔
دوسری دلیل یہ ہے کہ تمام فرقوں اور قوموں کی طرف سے نظر کرنے سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ بغیر کسی سر پرست، صدر یا رہبر کے اپنے سماجی حیات کو باقی نہیں رکھ سکتے کیونکہ اپنے دینی اور دنیاوی امور کی ادائیگی کے لیے وہ ہر قدم پر ایک سرپرست اور رہبر کے محتاج ہیں جو ان کی رہنمائی کرے۔ یہ فطری چیز ہے لہذا خداوند عالم نے ہر قوم کے لیے ایک رہبر اور ہادی مقرر کیا ہے۔ ایک الٰہی رہبر ہونا چاہیے جس کے وجود سے قوم کو تقویت ملے اور اس کی سربراہی میں وہ دشمنوں کا مقابلہ کریں۔
اولو الامر کا ہونا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر اسلامی معاشرے میں اولو الامر قانون کے محافظ امانتدار خدمت گزار، نظم و ضبط برقرار کرنے والے کے عنوان سے موجود نہ ہو تو دین میں رد و بدل کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ اسلامی احکام اور اسلامی سنتین الٹ پھیر کا شکار ہو جاتی ہیں اور نئی چیزیں داخل کرنے والے بدعتی لوگ سنتوں کو بدعتوں میں بدل دیتے ہیں اور مسلمانوں کے سامنے ایک نئے انداز سے پیش کرتے ہیں۔ لہذا اگر کسی ایسے شخص کو، جو نظم کو باقی رکھ سکتا ہو اور جو قوانین و دستورات پیغمبر ص لے کر آئے ہیں ان کو اپنی اصلی حالت پر باقی رکھ سکتا ہو ان پر ناظر کے عنوان سے بٹھایا جائے تو سارا نظام نظم و ضبط کے ساتھ باقی رہے گا۔
ولایتِ فقیہ کی ضرورت پر نقلی دلیل
اسحاق ابن یعقوب حضرت ولی عصر عج کو ایک خط لکھ کر اپنی مشکلات کا اس میں ذکر کرتے ہیں جسے محمد بن عثمان عمری حضرت کے نائب خاص حضرت کو یہ خط پہنچاتے ہیں۔ اس خط کا جواب خود حضرت اپنے ہاتھ سے لکھ کر بھیجتے ہیں؛ "جو حوادث تم کو پیش آتے ہیں ان میں ان کی طرف رجوع کرو جو ہم سے روایت نقل کرتے ہیں کیونکہ وہ تم پر ہماری طرف سے حجت ہیں اور ہم ان پر اللہ کی طرف سے حجت ہیں۔(کمال الدین)
یہ جو کہاں جاتا ہے کہ ولی امر حجت خدا ہے تو کیا شرعی مسائل میں حجت ہے کہ ہمارے لیے مسائل بیان کرتا رہے؟ رسول خدا ص نے یہ جو فرمایا، کہ میں جا رہا ہوں میرے بعد علی ع تم پر حجت ہیں تو کیا اس حدیث سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آنحضرت ص تو چلے گئے اب سب کام تعطیل ہو گئے، صرف شرعی مسائل بیان کرنا باقی رہ گیا اور صرف یہی کام امیرالمومنین ع کے سپرد کیا گیا ہے؟
حجت خدا وہ ہوتا ہے جسے بعض امور کی انجام دہی کے لیے خدا مقرر فرماتا ہے اور اس کے تمام تر افعال و اقوال مسلمانوں کے لیے حجت ہوتے ہیں.لہذا اس حدیث سے ثابت ہے کہ عصر غیبت میں زندگی کے تمام مسائل میں ولایت فقیہ کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔
نتیجہ
پس عصر حاضر میں ولایت فقیہ کی ضرورت واضح اور روشن ہے۔ ہمارا دشمن ہمارے ولایتی نظام کو تباہ و برباد کر دینا چاہتا ہے۔اس کی جنگ ایران سے نہیں، اس کی جنگ ایران کے لوگوں سے نہیں ،اس کی جنگ ایران کے ولایتی نظام سے ہے جسے وہ ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کی دیرینہ آرزو ہے کہ اسلامی ممالک میں اسلامی حکومت قائم نہ ہو۔ اس لیے کچھ ایسے افراد سیکولرزم نظریے کے قائل ہیں اور دین کو سیاست سے جدا مانتے ہیں اور یہ پروپیگنڈا معاشرے میں عام کرتے ہیں کہ ولایت فقیہ ایک سیاسی نظام ہے اور دین فقط عبادی و اخلاقی پہلو رکھتا ہے ،سیاست سے اس کا کوئی تعلق نہیں لہذا دین میں ولایت فقیہ کا نظریہ باطل نظریہ ہے۔ جبکہ یہ عقیدہ بلکل غلط ہے،دین عین سیاست ہے۔
اسی طرح کچھ لوگ دین کو سیاست سے جدا نہیں مانتے لیکن ولایت فقیہ کا انکار کرتے ہیں اس دلیل کے ساتھ کہ امام معصوم ع کی ولایت کے ہوتے ہوئے کسی عام انسان کی ولایت قابل قبول نہیں ہے اور ولایت کا حق صرف معصومین کو حاصل ہے اور غیبت امام میں کوئی غیر معصوم ولایت کا حق رکھے ،ثابت نہیں۔ جب کہ ہم نے اپنی تحریر میں ثابت کیا کہ خود معصومین کی روایات سے ثابت ہے کہ غیبت امام زمان ع میں نائبین امام زمان ع کی طرف رجوع کرنا ہمارا فرض اور ہماری ذمہ داری ہے۔
ولایت فقیہ کا نظریہ ایک ایسا نظریہ ہے جو بہت روشن اور واضح ہے اور دلیلوں کا محتاج نہیں لیکن اس کے باوجود ولایت فقیہ پر اٹھنے والے اعتراضات میرے خیال میں صرف اور صرف نظام حکومت اسلامی کی بنیادوں کو ہلانے کی ایک سازش ہے تاکہ لوگ اس نظریہ سے دستبردار ہوجائیں اور اسلامی حکومت تشکیل نہ پا سکے۔ اس طرح کے فکری اور عقائدی حملے ہمارے دشمن کے آلۂ کار رہے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم دشمن شناس بنین، اپنے دشمن اور اس کے سازشوں کو پہچانیں، اپنے عقائد کو مضبوط کریں اور ہمیشہ ولایت فقیہ کے دامن کو تھامے رکھیں اور اس کے ساتھ جڑے رہیں کیونکہ غیبت امام زمان ع میں ولایت فقیہ ہی وہ سفینہ (کشتی) ہے جو فکری اور عقائدی انحرافات کے سمندر سے با آسانی عبور کر جانے میں ہماری مدد کر سکتی ہے۔









آپ کا تبصرہ